UglyStance

Killers Of The Innocent

08 May 2020

صبح صبح ایک گرج دار آواز سے میری آنکھ کھل گئ .ہر طرف ہل چل مچی ہوئی تھی . تھوڑی دیر بعد آبا کے دوست آے اور ان سے کوئی بات کرنے لگ گۓ. ان کی بات سن کر ابا کے چہرے پر حیرت کا ملا جلا رنگ آ گیا. اس کے بعد ابا میری طرف مڑے اور کہا کہ ہمیں فورن یہاں سے چلنا پڑے گا. پوری آبادی میں بھاگم بھاگ مچی ہوئی تھی. تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک گرج دار آواز آتی اور سب کانپ جاتے. میں نے ابا سے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے لیکن انہوں نے میری بات کا کوئی جواب دیا اور کہا کہ بس تیز تیز چلو.

ابا کو شاید یہ غلط فہمی تھی کہ مجھے شاید ہم پر طاری مصیبت کا کوئی علم نہیں. انہوں نے میرے چھوٹے دماغ پر زیادہ بوجھنہ ڈالنے کی نیت سے مجھے کوچھ نہیں بتایا. لیکن معاملہ کوچھ یوں تھا کے یہ آواز مے ایک بار پہلے بھی سن چکا تھا.

میں تب کافی چھوٹا تھا اور اپنی ماں کے ساتھ پارک میں کھل رہا تھا کے اچانک یہی منحوس آواز میرے کانوں میں پڑی اور میری ماں زمین پر گر گئی. ماں کی کمر سے خوں نکل رہا تھا اور درد کے مارے تڑپ رہی تھی. میں خوف اور صدمے کی اس حالت میں تھا اور اپی جگا پر ہی کھڑا رہ گیا. میری ماں نے میری طرف دیکھا اور مجھے بولا کہ بھاگجو جاؤ. میں وہاں کھڑا ہوکر اپنی ماں کیحفاظت کرنا چاہتا تھا مگر نہ تو مجھ میں اتنی طاقت تھی اور نہ ہی ہمت. اس لئے میں وہاں سے بھاگ گیا. تھوڑی دور جا کر مجھے میرے ابا مل گئے اور وہ مجھے بستی سے دور ایک ایسی جگا لے گئے جو بکول ابا کے ان شیطانوں کے شر سے محفوظ تھی جنہوں نے میری ماں کی جان لی تھی. اگلے دن جب ہمواپس آے تو مجھے معلوم ہوا کے اس مخصور آواز نے ہمارے اور بھی کئی لوگوں سے ان کے پیارے چھین لئے تھے.

تب میں بچا تھا اور مجھے اسبات کاعلم نہیں تھا کے یہ آواز کس چیز کی تھی مگر اب بچا نہیں رہا اور میرے کوچھ سوالوں کے جواب مجھے مل چوکے تھے. جیسے کہ یہ منحوس اور گرج دار آواز گولی چلنے کی ہے. لیکن کچھ سوال ایسے بھی تھے جن کا جواب مجھے نہیں مل سکا تھا جیسے کہ میں نے اور میری ماں نے اور میری بستی کے باکی لوگوں نے ان ظالموں کا کیا بگاڑا تھا جو یہ ہماری جان کے دشمن بنے ہوے ہیں. وہ کون سا جرم تھا جس کی سزا ہمیں موت کی صورت میں دی جا رہی تھی.

یہ زمیں خدا نے سب کے لئے بنائی ہے اور ہمیں بھی جینے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا ان ظالموں کو. جب ہم کسی کو نکسان نہیں پہنچا رہے اور چپ چاپ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں تو یہ لوگ ہمیں چین سے جینے کیوں نہیں دیتے. اگر ہماری زندگی ان کی دی ہوئی نہیں ہے تو پھر ان کو یہ حق کس نے دیا کہ یہ ہم سے ہماری زندگی چھین سکیں. کیا ان ظالموں کے لئے زندگی کی کوئی اہمیت نہیں تھی ین دوسروں کی جن لینا ان کے لئے کوئی کھیل تھا.

ابا کے ساتھ بھاگتے ہوے یہی سوال میرے ذھن میں گردش کر رہے تھے کہ اس خوف ناک آواز مجھے ایک بار پھر سنائی دی. اس بار یہ آواز بہت قریب سے آئی تھی. چار پانچ قدم آگے جانے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کے ابا میرے ساتھ نہں تھے. میں نے پیچھے موڑ کر دیکھا تو ابا میرے ساتھ نہیں تھے. ابا زمین پر گر چکے تھے اور ان کی چھاتی سے خوں نکل رہا تھا. میں نے ارادہ کر لیا کہ اب کی بار میں بھاگوں گا نہیں بلکے ابا کی مدد کروں گا اس سے پہلے کے اپنے ابا کی طرف قدم اٹھاتا ایک اور گولی چلنے کی آواز آئ. اس سے پہلے کے میں کوچ سوچ پاتا میں بھی زمین سے جا ٹکرایا. میرے سینے مجھے ایسا درد محسوس ہوا کے جیسا میں دوبارہ اٹھ ہی نہ سکا. مجھے اندازہ ہو گیا کے مجھے بھی گولی لگ چکی ہے. اب جب مجھے اپنے ماں باپ اور گولی سے مرنے والے ناجانے کتنے لوگوں کے درد کا اندازہ ہوا تو میرے ذھن میں ایک اور سوال آیا کہ اشرفلمخلوقات کے پاس بلا وجہ ایک جان لینے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں تھا. ایسا نہیں ہو سکتا تھا کے یہ لوگ ہمیں کسی کم درد ناک طریقے سے مرتے تو ہمیں بے موت مرنے کا دکھ تو نہ ہوتا اور ہماری آخری سانسیں ہم پر اتنی بھری تو نہ ہوتیں اور ہمارا دم سکون سے نکل جاتا.

مجھے پتا لگ چکا تھا کے اب مجھے اپنے ان سوالوں کے جواب کبھی نہیں ملین گیں. ابا کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور میں بھی اپنی آخری سانسیں لے راہا تھا. وہ سخص جس نے میرے ابا کی جان لی تھی چلتا ہوا میرے پاس آیا اور پیچھے مور کر اپنے ساتھی کو آواز دے کرکہنے لگا کے گاڑی والوں کو فون کر کے بتا دو کے گلی نمبر تین میں آ کر دو آوارہ کتوں کی لاشین اٹھالیں.